اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری بہ مزاحمت بلاک کے رکن ایہاب حمادہ نے لبنان، امریکا اور اسرائیلی رژیم کے درمیان ہونے والے نام نہاد فریم ورک معاہدے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی عملی یا قانونی حیثیت نہیں۔
شہر ہرمل میں حزب اللہ کے شہید عیسیٰ زہیر خزعل کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایہاب حمادہ نے کہا کہ جس دستاویز کو فریم ورک معاہدہ کہا جا رہا ہے، وہ "محض کاغذ پر لکھی چند سطریں" ہیں اور اس کی کوئی وقعت نہیں۔ ان کے بقول اس معاہدے کا نتیجہ جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے کے لیے کھلا چھوڑنا اور وہاں اسرائیلی فوج کی طویل موجودگی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
انہوں نے لبنانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہی پالیسی جاری رہی تو اس سے اسرائیلی حملوں، گھروں کی تباہی، شہریوں کی بے دخلی اور جنوبی لبنان کے دیہات کی تباہی کو جواز ملے گا۔
ایہاب حمادہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران امریکا اور اسرائیلی رژیم نے جنگ، تباہی اور جبری نقل مکانی سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے، لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب اسرائیلی رژیم اپنے فوجی اہداف حاصل نہ کر سکی تو اب لبنانی حکومت کو اپنے مقاصد آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایہاب حمادہ نے کہا کہ اس نوعیت کے منصوبے 1982ء سے بار بار سامنے آتے رہے ہیں، مگر کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کے بقول فرق صرف یہ ہے کہ جو منصوبے پہلے خفیہ طور پر آگے بڑھائے جاتے تھے، اب انہیں کھلے عام پیش کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ